مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے مرے آقا کرنا
جمعہ 27 رجب 1447 بہ مطابق 16 جنوری 2026
جمعہ 27 رجب 1447 بہ مطابق 16 جنوری 2026
جمعہ 27 رجب 1447 بہ مطابق 16 جنوری 2026
پیر نصیر الدین شاہ نصیرؔ
مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے مرے آقا کرنا
| مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے مرے آقا کرنا |
| حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضا کرنا |
| میں کہ ذرّہ ہوں مجھے وسعت ِصحرا دے دے |
| کہ ترے بس میں ہے قطرے کو بھی دریا کرنا |
| میں ہوں بےکس تیرا شیوہ ہے سہارا دینا |
| میں ہوں بیمار تیرا کام ہے اچھّا کرنا |
| تو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے |
| کہ تری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا |
| تیرے صدقے وہ اسی رنگ میں خود ہی ڈوبا |
| جس نے جس رنگ میں چاہا مجھے رسوا کرنا |
| یہ ترا کام ہے اے آمنہ کے دُرِّ یتیم |
| ساری امت کی شفاعت تنِ تنہا کرنا |
| آل و اصحاب کی سنّت مرا مِعْیارِ وفا |
| تری چاہت کے عوض جان کا سودا کرنا |
| شاملِ مقصدِ تخلیق یہ پہلو بھی رہا |
| بزمِ عالم کو سجا کر تیرا چرچا کرنا |
| مجھ پہ محشر میں نصیرؔ ان کی نظر پڑ ہی گئی |
| کہنے والے اسے کہتے ہیں خدا کا کرنا |