جمعہ 27 رجب 1447 بہ مطابق 16 جنوری 2026
جمعہ 27 رجب 1447 بہ مطابق 16 جنوری 2026
جمعہ 27 رجب 1447 بہ مطابق 16 جنوری 2026
مظفرؔ وارثی
| مر کے اپنی ہی اداؤں پہ امَر ہو جاؤں |
| اُن کی دہلیز کے قابل میں اگر ہو جاؤں |
| اُن کی راہوں پہ مجھے اتنا چلانا یارب |
| کہ سفر کرتے ہوئے گردِ سفر ہو جاؤں |
| زندگی نے تو سمندر میں مجھے پھینک دیا |
| اپنی مٹھی میں وہ لے لیں تو گہر ہو جاؤں |
| میرا محبوب ہے وہ راہبرِ کون و مکاں |
| جس کی آہٹ بھی میں سُن لوں تو خضر ہو جاؤں |
| اِس قدر عشقِ نبی ہو کہ مٹا دوں خود کو |
| اِس قدر خوفِ خدا ہو کہ نڈر ہو جاؤں |
| جو پہنچتی رہے اُن تک، جو رہے محوِ طواف |
| ایسی آواز بنوں، ایسی نظر ہو جاؤں |
| ضرب دوں خود کو جو اُن سے تو لگوں لاتعداد |
| وہ جو مجھ میں سے نکل جائیں صفر ہو جاؤں |
| آرزو اب تو مظفرؔ جو کوئی ہے تو یہ ہے |
| جتنا باقی ہوں مدینے میں بسر ہو جاؤں |