جمعہ 27 رجب 1447 بہ مطابق 16 جنوری 2026
جمعہ 27 رجب 1447 بہ مطابق 16 جنوری 2026
جمعہ 27 رجب 1447 بہ مطابق 16 جنوری 2026
فضل اللہ فاؔنی
| کبھی تو دیکھیں گے شہرِ شہِ اُمم کے پہاڑ |
| بنیں گے رائی جنھیں دیکھتے ہی غم کے پہاڑ |
| وہ جس نے دیکھے ہوں اک مرتبہ حرم کے پہاڑ |
| نظر میں اُس کی سمائیں گے کیا عجم کے پہاڑ |
| رہے پہاڑ کے مانند آپ اپنی جگہ |
| اگرچہ توڑے گئے آپ پر ستم کے پہاڑ |
| حصارِ جسم سے نکلوں تو طیبہ آ جاؤں |
| ہیں میری راہ میں سانسوں کے زیر و بم کے پہاڑ |
| زبانِ حال سے کہتا تھا اُن کا رُخ ہر دم |
| دکھائے تو مِرے جلوے کے آگے جم کے پہاڑ |
| بنیں گے ڈھال خدا کے غضب کے آگے ہمیں |
| وہ لطف و رحم کے، وہ جود کے، کرم کے پہاڑ |
| یہ اُن کی نعت ہے فاؔنی کوئی غزل تو نہیں |
| ردیف و قافیہ کیوں ہوں رہِ قلم کے پہاڑ |