لاگ ان

پیر 01 ذوالحجہ 1447 بہ مطابق 18 مئی 2026

لاگ ان

پیر 01 ذوالحجہ 1447 بہ مطابق 18 مئی 2026

لاگ ان / رجسٹر
پیر 01 ذوالحجہ 1447 بہ مطابق 18 مئی 2026

پیر 01 ذوالحجہ 1447 بہ مطابق 18 مئی 2026

فضل اللہ فاؔنی

شہرِ شـہِ اُمم کے پہـاڑ

کبھی تو دیکھیں گے شہرِ شہِ اُمم کے پہاڑ
بنیں گے رائی جنھیں دیکھتے ہی غم کے پہاڑ
وہ جس نے دیکھے ہوں اک مرتبہ حرم کے پہاڑ
نظر میں اُس کی سمائیں گے کیا عجم کے پہاڑ
رہے پہاڑ کے مانند آپ اپنی جگہ
اگرچہ توڑے گئے آپ پر ستم کے پہاڑ
حصارِ جسم سے نکلوں تو طیبہ آ جاؤں
ہیں میری راہ میں سانسوں کے زیر و بم کے پہاڑ
زبانِ حال سے کہتا تھا اُن کا رُخ ہر دم
دکھائے تو مِرے جلوے کے آگے جم کے پہاڑ
بنیں گے ڈھال خدا کے غضب کے آگے ہمیں
وہ لطف و رحم کے، وہ جود کے، کرم کے پہاڑ
یہ اُن کی نعت ہے فاؔنی کوئی غزل تو نہیں
ردیف و قافیہ کیوں ہوں رہِ قلم کے پہاڑ
لرننگ پورٹل