ماہرؔ القادری(۱۹۰۶۔۱۹۷۸ء)
معروف ادیب اور شاعر
| رسولِ مجتبیٰ کہیے، محمد مصطفیٰ کہیے |
| خدا کے بعد بس وہ ہیں، پھر اِس کے بعد کیا کہیے |
| شریعت کا ہے یہ اِصرار ختم الانبیاء کہیے |
| محبت کا تقاضا ہے کہ محبوبِ خدا کہیے |
| جب اُن کا ذکر ہو، دنیا سراپا گوش ہو جائے |
| جب اُن کا نام آئے مرحبا صلِّ علیٰ کہیے |
| مرے سرکار کے نقشِ قدم شمعِ ہدایت ہیں |
| یہ وہ منزل ہے جس کو مغفرت کا راستہ کہیے |
| محمد کی نبوت دائرہ ہے نورِ وحدت کا |
| اسی کو ابتدا کہیے، اسی کو انتہا کہیے |
| غبارِ راہِ طیبہ سرمۂ چشمِ بصیرت ہے |
| یہی وہ خاک ہے جس خاک کو خاکِ شفا کہیے |
| مدینہ یاد آتا ہے تو پھر آنسو نہیں رکتے |
| مری آنکھوں کو ماہرؔ، چشمۂ آبِ بقا کہیے |

