علامہ اقبال
ہلالِ عید پر ایسی نظم نہ اس سے پہلے کبھی لکھی گئی اور نہ بعدمیں کسی سے بن آئی(مولانا غلام رسول مہرؔ)
| غرۂ شوال! اے نورِ نگاہ روزہ دار |
| آ کہ تھے تیرے لیے مسلم سراپا انتظار |
| تیری پیشانی پہ تحریرِ پیام عید ہے |
| شام تیری کیا ہے، صبحِ عیش کی تمہید ہے |
| سرگزشتِ ملتِ بیضا کا تو آئینہ ہے |
| اے مہِ نو! ہم کو تجھ سے الفتِ دیرینہ ہے |
| جس عَلَم کے سائے میں تیغ آزما ہوتے تھے ہم |
| دشمنوں کے خون سے رنگیں قبا ہوتے تھے ہم |
| تیری قسمت میں ہم آغوشی اسی رایَت کی ہے |
| حسنِ روز افزوں سے تیرے، آبرو ملت کی ہے |
| آشنا پرور ہے قوم اپنی، وفا آئیں ترا |
| ہے محبت خیز یہ پیراہنِ سیمیں ترا |
| اوجِ گردوں سے ذرا دنیا کی بستی دیکھ لے |
| اپنی رفعت سے ہمارے گھر کی پستی دیکھ لے! |
| قافلے دیکھ اور ان کی برق رفتاری بھی دیکھ |
| رہروِ درماندہ کی منزل سے بیزاری بھی دیکھ |
| دیکھ کر تجھ کو اُفق پر ہم لٹاتے تھے گُہر |
| اے تہی ساغر! ہماری آج ناداری بھی دیکھ |
| فرقہ آرائی کی زنجیروں میں ہیں مسلم اسیر |
| اپنی آزادی بھی دیکھ، ان کی گرفتاری بھی دیکھ |
| دیکھ مسجد میں شکستِ رشتۂ تسبیحِ شیخ |
| بت کدے میں برہمن کی پختہ زُنّاری بھی دیکھ |
| کافروں کی مُسلم آئینی کا بھی نظارہ کر |
| اور اپنے مسلموں کی مسلم آزاری بھی دیکھ |
| بارشِ سنگِ حوادث کا تماشائی بھی ہو |
| امتِ مرحوم کی آئینہ دیواری بھی دیکھ |
| ہاں، تملق پیشگی دیکھ آبرو والوں کی تو |
| اور جو بے آبرو تھے، ان کی خود داری بھی دیکھ |
| جس کو ہم نے آشنا لطفِ تکلم سے کیا |
| اس حریفِ بے زباں کی گرم گفتاری بھی دیکھ |
| سازِ عشرت کی صدا مغرب کے ایوانوں میں سن |
| اور ایراں میں ذرا ماتم کی تیاری بھی دیکھ |
| چاک کر دی ترکِ ناداں نے خلافت کی قبا |
| سادگی مسلم کی دیکھ، اوروں کی عیاری بھی دیکھ |
| صورتِ آئینہ سب کچھ دیکھ اور خاموش رہ |
| شورشِ امروز میں محوِ سرودِ دوش رہ |

