حفیظ جالندھری (۱۹۰۰۔۱۹۸۲ء)
معروف شاعر
| غلاموں کو سریرِ سلطنت پر جس نے بٹھلایا |
| یتیموں کے سروں پر کر دیا اقبال کا سایا |
| گداؤں کو شہنشاہی کے قابل کر دیا جس نے |
| غرورِ نسل کا افسون باطل کر دیا جس نے |
| وہ جس نے تخت اوندھے کر دیے شاہانِ جابر کے |
| بڑھائے مرتبے دنیا میں ہر انسانِ صابر کے |
| وہ جس کا ذکر ہوتا ہے، زمینوں آسمانوں میں |
| فرشتوں کی دعاؤں میں، مؤذِن کی اذانوں میں |
| وہ جس کے معجزے نے نظْمِ ہستی کو سنوارا ہے |
| جو بے یاروں کا یارا، بے سہاروں کا سہارا ہے |
| وہ نورِ لَم یزل جو باعثِ تخلیقِ عالم ہے |
| خدا کے بعد جس کا اِسْمِ اعظم؛ اِسْمِ اعظم ہے |
| ثنا خواں جس کا قرآں ہے، ثنا ہے جس کی قرآں میں |
| اُسی پر میرا ایماں ہے، وہی ہے میرے ایماں میں |

