لاگ ان

اتوار 03 ربیع الاول 1448 بہ مطابق 16 اگست 2026

لاگ ان

اتوار 03 ربیع الاول 1448 بہ مطابق 16 اگست 2026

لاگ ان / رجسٹر
اتوار 03 ربیع الاول 1448 بہ مطابق 16 اگست 2026

اتوار 03 ربیع الاول 1448 بہ مطابق 16 اگست 2026

فیض احمد فیضؔ (۱۹۱۱۔۱۹۸۴ء)
معروف شاعر

فیض نے یہ نظم ۱۹۷۴ء میں ڈھاکہ سے واپسی پر لکھی

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
تھے بہت بے درد لمحے خَتْمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بے مَہْر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد
اُن سے جو کہنے گئے تھے فیضؔ جاں صدقہ کیے
اَن کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
لرننگ پورٹل