فیض احمد فیضؔ (۱۹۱۱۔۱۹۸۴ء)
معروف شاعر
| ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد |
| پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد |
| کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار |
| خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد |
| تھے بہت بے درد لمحے خَتْمِ دردِ عشق کے |
| تھیں بہت بے مَہْر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد |
| دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی |
| کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد |
| اُن سے جو کہنے گئے تھے فیضؔ جاں صدقہ کیے |
| اَن کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد |

