اتوار 03 ربیع الاول 1448 بہ مطابق 16 اگست 2026
اتوار 03 ربیع الاول 1448 بہ مطابق 16 اگست 2026
اتوار 03 ربیع الاول 1448 بہ مطابق 16 اگست 2026
مظفرؔ وارثی
| مر کے اپنی ہی اداؤں پہ امَر ہو جاؤں |
| اُن کی دہلیز کے قابل میں اگر ہو جاؤں |
| اُن کی راہوں پہ مجھے اتنا چلانا یارب |
| کہ سفر کرتے ہوئے گردِ سفر ہو جاؤں |
| زندگی نے تو سمندر میں مجھے پھینک دیا |
| اپنی مٹھی میں وہ لے لیں تو گہر ہو جاؤں |
| میرا محبوب ہے وہ راہبرِ کون و مکاں |
| جس کی آہٹ بھی میں سُن لوں تو خضر ہو جاؤں |
| اِس قدر عشقِ نبی ہو کہ مٹا دوں خود کو |
| اِس قدر خوفِ خدا ہو کہ نڈر ہو جاؤں |
| جو پہنچتی رہے اُن تک، جو رہے محوِ طواف |
| ایسی آواز بنوں، ایسی نظر ہو جاؤں |
| ضرب دوں خود کو جو اُن سے تو لگوں لاتعداد |
| وہ جو مجھ میں سے نکل جائیں صفر ہو جاؤں |
| آرزو اب تو مظفرؔ جو کوئی ہے تو یہ ہے |
| جتنا باقی ہوں مدینے میں بسر ہو جاؤں |