لاگ ان

ہفتہ 01 ذوالقعدہ 1447 بہ مطابق 18 اپریل 2026

لاگ ان

ہفتہ 01 ذوالقعدہ 1447 بہ مطابق 18 اپریل 2026

لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 01 ذوالقعدہ 1447 بہ مطابق 18 اپریل 2026

ہفتہ 01 ذوالقعدہ 1447 بہ مطابق 18 اپریل 2026

فیض احمد فیضؔ (۱۹۱۱۔۱۹۸۴ء)
معروف شاعر

فیض نے یہ نظم ۱۹۷۴ء میں ڈھاکہ سے واپسی پر لکھی

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
تھے بہت بے درد لمحے خَتْمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بے مَہْر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد
اُن سے جو کہنے گئے تھے فیضؔ جاں صدقہ کیے
اَن کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
لرننگ پورٹل