لاگ ان

اتوار 03 ربیع الاول 1448 بہ مطابق 16 اگست 2026

لاگ ان

اتوار 03 ربیع الاول 1448 بہ مطابق 16 اگست 2026

لاگ ان / رجسٹر
اتوار 03 ربیع الاول 1448 بہ مطابق 16 اگست 2026

اتوار 03 ربیع الاول 1448 بہ مطابق 16 اگست 2026

نصیرؔ ترابی (۱۹۴۵۔۲۰۲۱ء)<br/ >معروف شاعر

<br/ >

وہ ہم سفر تھا، مگر اُس سے ہم نوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا، جدائی نہ تھی
نہ اپنا رنج، نہ اوروں کا دکھ، نہ تیرا ملال
شبِ فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی
محبتوں کا سفر اس طرَح بھی گزرا تھا
شکستہ دل تھے مسافر، شکستہ پائی نہ تھی
عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی
بچھڑتے وقت اُن آنکھوں میں تھی ہماری غزل
غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی
کسے پکار رہا تھا وہ ڈوبتا ہوا دن
صدا تو آئی تھی لیکن کوئی دُہائی نہ تھی
کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت
کبھی یہ مرحلہ جیسے کہ آشنائی نہ تھی
عجیب ہوتی ہے راہِ سخن بھی دیکھ نصیرؔ
وہاں بھی آ گئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی
لرننگ پورٹل